Monday, 28 December 2015

کیا عوام الناس کو ترجمہ قرآن پڑھنا منع اور ناجائز ہے۔۔؟؟

Read Online
کیا عوام الناس کو ترجمہ قرآن پڑھنا منع اور ناجائز ہے۔۔؟؟
Quran ka Tarjuma Paharna
کیا عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا ناجائز ہے؟
(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)
آج کل ایک غلط بات مشہور کردی گئی ہے کہ عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا یاکسی آیت،رکوع کا مفہوم علماءکی تفاسیر سے ذہن نشین کرکے بیان کرنا ناجائز ہے۔چنانچہ اس غلط بات کو پھیلانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں اور عوام نے قرآن کریم کو محض برکت حاصل کرنے کی کتاب سمجھ کا طاقِ نسیان میں رکھ دیا ہے۔ہندوستان کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہاں 200سال تک انگریز حکومت کرکے گیا ہے، اس نے دین اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کے جتن کیے، کبھی مدارس منہدم کیے تو کبھی علماءکو توپوں کے آگے کھڑا کرکے اڑا دیا گیا، کبھی علماءکو پھانسیاں دیں تو کبھی لاکھوں قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے، لیکن انگریز کو اندازہ ہوگیا کہ بزور طاقت اور اسلحہ کے بل بوتے پر ہم مسلمانوں سے اسلام اور قرآن سے لگاو نہیں ختم کرسکتے، چنانچہ انہوں نے مختلف تکنیک اور حربوں پر تحقیقات کیں اور باالاخر انگریز فرقہ واریت اور اختلافات کا بیج بو کر چلا گیا اور آج تک ہم اسی فرقہ واریت اورآپس کے فروعی اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں، اسی طرح قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے ایسی باتیں مشہور کردیں کہ عوام کا تعلق قرآن سے نہ ہو۔ حالانکہ اگر ہم اپنے اسلاف اور اکابرین کی زندگیوں اور تحریروں کو دیکھیں تو انہوں نے ساری زندگی عوام کو قرآن سے جوڑنے میں لگائی اور اسی بات کی دہائی دیتے دیتے دنیا سے چلے گئے۔
میں نے اپنے ان گناہ گار کانوں سے یہ بات بھی سنی ہے کہ اگر عام لوگ ترجمہ قرآن پڑھیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے، یہ ترجمہ پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔ حیرت ہوتی ہے دشمن نے کتنی محنت کی، قرآن کریم کے متعلق کیسی کیسی باتیں پھیلا دی گئی ہیں، چنانچہ آج لوگ قرآن کو ہاتھ میں لینا گوارہ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کا احترام ان کے دلوں میں بہت ہے، اسے چومتے ہیں، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، اس سے اونچا نہیں ہوتے، لیکن پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔
فہم قران کے دو پہلو ہیں، ایک تدبر فی القرآن اور دوسرا تذکّر بالقرآن۔ تدبر فی القران کے لئے بلاشبہ بہت سے علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا کہ تیرا چودہ علوم پر دسترس ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ بات بھی پرانی ہوچکی ہے، آج کل تدبر فی القرآن کے لئے کم از کم بیس پچیس علوم جن میں جدید علوم اور فلسفے بھی شامل ہیںان سب پر مہارت ہونا ضروری ہے، آج کل مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب اتنا ناقص ہے کہ وہ ایسے علماءپیدا ہی نہیں کرسکتا جو تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں، چہ جائیکہ ہم دورہ حدیث سے فارغ ہوکرسند لینے والے کو اس قابل سمجھیں کہ وہ تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتا ہے۔البتہ جہاں تک تعلق ہے تذکر باالقرآن یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا تو اس بارے میں خود قرآن کہتا ہے: ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر؟ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا، اور یہ نصیحت کا پہلو بلاشبہ محض ترجمہ پڑھنے والے کو بھی میسر ہوتا ہے۔
یاد رکھیئے! قرآن اللہ کی معجزانہ کتاب ہے اس کو پڑھ کر گمراہی نہیں ہدایت پھیلتی ہے، یہ انسان کے دل میں اس حقیقی ایمان کو اپیل کرتا ہے جو انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر رکھاہوا ہے، یہ اس حقیقی ایمان کی چنگاری کے لئے پٹرول کا کام کرتا ہے،اور اسے یک دم بھڑکا دیتا ہے۔سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ یورپ میں جدی پشتی انگریز غیر مسلم قرآن کریم کا محض ترجمہ پڑھ کر مسلمان کیوں ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کو تو عربی زبان اور ناظرہ قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا، وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں بھی فطری طور پر ایمان کی چنگاری موجود ہوتی ہے قرآن کو پڑھ اور سن کر وہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔یورپ کے ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ موبائل پر تلاوت لگا کر مارکیٹوں اور بازاروں میں غیرمسلموں کی طرف ہینڈفری آگے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیس سیکنڈ تک یہ آڈیو سن کر اپنے کمنٹس دو، چنانچہ وہ مختلف چلنے پھرنے والے خواتین وحضرات کو اس طرح قرآن سنا کر ان سے کمنٹ لیتا ہے، وہ لوگ سنتے ہوئے بہت حیران ہوتے ہیں ان کے چہرے کے تاثرات سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت متاثر ہوئے ہیں، بعض تو رو بھی پڑتے ہیں۔
بی بی سی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل جان بِٹ کا بیٹا یحی بِٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، مسلمان ہوگیا، پھر PHDکے لئے اسے جو مقالہ تیار کرنا تھا اس کا عنوان تھا ”یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے“چنانچہ اس نے دو تین سال تک یورپ میں اس بات پر تحقیق کی اور پھر اپنی رپورٹ پیش کی ، جس میں اس نے بتایا کہ پچھلے دس سالوں میں تیرا ہزار لوگ مسلمان ہوئے جن میں سے 80%لوگ قرآن سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ انہیں میں سے ایک امریکی خاتون ”ایم کے ہرمینسن“ بھی تھی۔ جب اس سے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: میں سپین میں پڑھتی تھی، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیو کی سوئی گماتے گماتے اچانک ایک عجیب آواز آنا شروع ہوئی چنانچہ میں نے اسے سننا شروع کردیا، مجھے ایسے لگا کہ یہ میرے دل کے اندر سے آواز آرہی ہے، یا مجھے میرے گمشدہ متاع مل گئی ہے۔ چنانچہ میں کئی دن تک سنتی رہی، باالاخر میں نے سوچا کسی سے پوچھوں یہ کس چیز کی آواز ہے اور کیا ہے؟ میں نے جب پوچھا تو مجھے کسی نے بتایا یہ مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن ہے۔ چنانچہ میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ منگوا کر پڑھنا شروع کیا اور مکمل پڑھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو ترجمہ ہے جب تک اصل سورس کو نہ دیکھا جائے اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں، چنانچہ اصل سورس کو سمجھنے کے لئے میں مصر گئی اور قاہرہ یونیورسٹی میں عربی زبان کو سیکھنے کے لئے داخلہ لیا، دو سالہ عربی کورس کرنے کے بعد پھر اصل عربی قرآن کو پڑھا تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔یہ ہے قرآن کی ہدایت، اسی لئے قرآن میں بار بار کہا گیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے، اس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے لیکن عوام میں یہ مشہور کردیا گیا کہ نعوذ بااللہ یہ کتاب گمراہ کرتی ہے، کتنی بڑی توہین کی بات ہے جولوگوں میں مشہور ہوچکی ہے۔
میرے خیال میں جتنے بھی فرقے اٹھے اور گمراہیاں پھیلی ہیں وہ عوام نے نہیں پھیلائیں، وہ ایسے لوگوں نے ہی پھیلائی ہیں جو قرآن وحدیث کے عالم تھے، مثلا مرزا غلام احمد قادیانی عام آدمی نہیں تھا، قرآن وحدیث کا علم رکھنے والا تھا، تبھی تو اس نے اپنے نبی اور مہدی ہونے کی قرآن وحدیث سے من گھڑت دلیلیں بناکر دیں۔ اسی طرح غلام احمد پرویز بھی کوئی عام شخص جو محض کسی عالم کے لکھے ہوئے ترجمے پر اکتفاءکرنے والا نہیں بلکہ دینی علوم کا ماہر اورحنفی سنی گھرانے میں پیداہونے کے علاوہ چشتیہ سلسلے کے صوفی بزرگ مولوی رحیم بخش کا پوتا تھا،ابتدائی دینی تعلیم بھی اپنے والد اور دادا سے حاصل کی، تبھی توغلام احمد پرویز نے حدیث کی ایسی ایسی تعبیریں کیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ نام میں نے بطور مثال پیش کیے ہیں باقی فرقوں کے بانیوں کے نام پیش کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا، ورنہ آج جتنے فرقے ہمارے ہاں ہیں ان کے بانیوں کو دیکھیں سب قرآن وحدیث کے عالم تھے، عربی کے ماہر تھے، صرف نحو، ادب، علم کلام، منطق پر عبور حاصل تھا۔ عام آدمی کے تو بس کی بات ہی نہیں کہ وہ کوئی گمراہی بنا یا پھیلا سکے، میرے پاس ایسی ایک بھی مثال نہیں کہ ایک عام آدمی جسے نہ عربی آتی ہو اور نہ دیگر علوم ، اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر کوئی گمراہی ایجاد کی ہو اور پھر وہ آج تک چلی آرہی ہو، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہے اس کی نظر اور دیہان قرآن کے تذکیری پہلو کی طرف ہوتا ہے، اسے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ شراب، جوا، سود، مردار حرام ہیں، جنت میں نعمتیں ہیں، جہنم میں عذاب ہیں، دنیا امتحان کی جگہ ہے وغیرہ۔البتہ جو خدشات اس حوالے سے پیدا ہوسکتے ہیں ان کے سدِباب کے لئے علماءکی طرف سے مسلسل ہدایات مسلمانوں کو ملتی رہیں تو کوئی حرج نہیں۔
یہاں اس بات سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں کہ بلاشبہ ان گمراہیوں کا سدباب بھی علمائے حق نے ہر دور میں اپنا خون دے کر کیا ہے، اور علماءکی خدمات اور محنت سے ہی یہ قرآن وسنت آج اصل حالت میں ہمارے پاس موجود ہیںاور آج بھی علمائے حق قرآن وسنت کی حفاظت اور اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اپنا تن من دھن لگا رہے ہیں، اگرچہ ایسے علماءکو وقفے وقفے سے چن چن کا ٹارگٹ بھی کیا جارہا ہے۔
اس موضوع کے حوالے سے اکابر علماءاور اسلاف کے چند اقوال پیش خدمت ہیں، ملاحظہ فرمایئے:
حضرت شیخ الہند کے شاگردِ خاص، تحریک ریشمی رمال کے سرکردہ رکن، اسیر مالٹا مولوی انیس احمد رحمہ اللہ” انوار القرآن “میں لکھتے ہیں:
جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ۔۔اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں۔ وہ ان کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کو بالکل نہیں سمجھ سکتے، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے مختلف علوم وفنون حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے جید عالم ہونے کی ضرورت ہے(صفحہ35)
شاہ اسماعیل شہید تقویة الایمان میں لکھتے ہیں: اس زمانہ میں دین کی بات میں جو لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں، کوئی پہلوں کی رسموں کو پکڑتے ہیں، کوئی قصے بزرگوں کے دیکھتے ہیں اور کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انہوں نے اپنی ذہن کی تیزی سے نکالی ہیںسند پکڑتے ہیں۔ اور یہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے، اس کو بڑا علم چاہیے، ہم کو وہ طاقت کہاں کہ ان کا کلام سمجھیں اور اس راہ پر چلنا پڑے، یہ بزرگوں کا کام ہے، سو ہماری کیا طاقت ہے کہ اس کے موافق چلیں، بلکہ ہم کو یہی باتیں کفایت کرتی ہیں۔ سو یہ بات بہت غلط ہے، اس واسطے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں باتیں بہت صاف صریح ہیں، ان کا سمجھنا مشکل نہیں اور اللہ اور رسول کے کلام کو سمجھنے میں بہت علم نہیں چاہیے کہ پیغمبر تو نادانوں کو راہ بتانے اور جاہلوں کو سمجھانے اور بے علموں کو علم سکھانے کو آئے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے پیغمبر بنا کر بھیجا، وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔(الجمعہ2)
سو جو کوئی یہ آیت سن کر پھر کہنے لگے کہ پیغمبرکی بات سوائے عالموں کے کوئی سمجھ نہیں سکتا اور ان کی راہ پر سوائے بزرگوں کے کوئی نہیں چل سکتا۔ سو اس نے اس آیت کا انکار کیا۔ اس بات کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک بڑا حکیم ہو اور ایک بہت بیمار، پھر کوئی شخص اس بیمار سے کہے کہ فلانے حکیم کے پاس جاو اور اس سے علاج کراوتو وہ کہے اس سے علاج کروانا تو بڑے بڑے تندرستوں کا کام ہے میں تو بہت بیمار ہوں۔ سو وہ بیمار احمق ہے اور اس حکیم(قرآن) کی حکمت سے انکار رکھتا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنے فارسی ترجمے ”فتح الرحمن“ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:
جس طرح لوگ مثنوی مولانا جلال الدین، گلستان شیخ سعدی ومنطق الطیر شیخ فرید الدین عطار وقصص فارابی ونفحات مولانا عبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں اسی طرح قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اگر وہ کتابیں اولیاءاللہ کا کلام ہیں تو قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اگر ان میں حکماءکے وعظ ہیں تو قرآن مجید میں احکم الحاکمین کے فرمان ہیں۔
اسیر مالٹا مولوی انیس احمد ؒ قرآن سے استفادہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: اس کی مثال یہ ہے کہ پانی سے اِس زمانے میں بھاپ حاصل کرکے مختلف کام لئے جاتے ہیں اور ریل گاڑیاں وغیرہ چلائی جاتی ہیں۔ پانی سے یہ کام صرف وہ لوگ لے سکتے ہیں جو سائنس(کے علم)سے واقف ہیں، لیکن ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی جاہل ہو پانی سے اپنی پیاس بجھا کر زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور روحانی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے جس آبِ حیات کی ضرورت ہے اس کو ہر شخص خواہ وہ جاہل ہو یا عالم، قران مجید کے بحرذخائر سے باآسانی حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ جو شخص زیادہ عالم ہو گا وہ علم وحکتم کے زیادہ موتی اس سمندر سے حاصل کرسکتے گا۔ہم اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں کہ چونکہ ہم بڑے عالم نہیں اور ہم قرآن مجید کے زیادہ نکات نہیں سمجھتے اس لئے ہم کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس تباہ اور برباد کردینے والی غلطی کی وجہ سے ہمیں قرآن مجید سے محرومی ہوتی جارہی ہے اور ہماری مذہبی اور روحانی حیات کا خاتمہ ہورہا ہے۔(انوارالقرآن صفحہ41)
مولوی انیس احمدؒ اسے خطرناک اور تباہ وبرباد کردینے والی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ اسی بات کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے: ان اللہ یرفع بھٰذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین۔ بے شک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت ساری قوموں کو عروج اور بہتوں کو زوال دیتا ہے۔ یعنی جو اس سے تعلق توڑ دیتے ہیں وہ دنیا میں ذلیل وخوار ہو جاتے ہیں۔
مزید لکھتے ہیں جب سے ہم قرآن کی اصلی تعلیم سے دور ہوتے گئے ہیں ہم برابر تنزل کر رہے ہیں۔ اور جیسی قوم کی حالت ہوتی ہے ویسے ہی اس کے اخلاق ہوتے ہیں، اگر قوم زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد میں جرا ¿ت، ہمت،استقلال،ترقی کی امنگ، ایثار، قربانی جیسے عمدہ اخلاق ہوتے ہیں۔ اور اگر قوم مردہ ہو تو اس کے افراد پست ہمت، سست، بزدل ہوتے ہیں۔ قومی تنزل کا مردہ اقوام میں اس قدراثر وہوتا ہے کہ عمدہ الفاظ کے مفہوم بھی بگڑ کر خراب ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں میں کچھ جان تھی تو اُن میں وعدہ اور قول وقرار کا دوسرا مفہوم تھا اور جب اُن پر مُردنی چھا گئی تو انہی الفاظ کا دوسرا مفہوم ہوگیا۔ چنانچہ پہلے مشہور تھا:
”قول مرداں جان دارد“
 پھر یہ حالت ہوئی
”وعدہ آساں ہے ولے اس کی وفا مشکل ہے“
 پھر اس کے بعد یہ حالت ہوگئی
”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا“
اسی طرح جب ہم نے قرآن کو چھوڑا، ہماری حالت خراب ہوئی تو قرآن کے مفہوم بھی بدل گئے۔

واقعی آج ہم اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں، اس مفہوم کے بدلنے کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہماری ایسی جماعتیں جو بلاشبہ دین کا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایک ہی آیت کے مفہوم کو اپنے اپنے کام پر چسپاں کرنے کے لئے آپس میں ہی لڑ رہی ہیں۔جس کا نقصان دین کو بھی ہورہا ہے اور خود ان کا کام بھی متاثر ہورہا ہے۔

Sunday, 8 November 2015

Whenever Abu Jahl used to act

Whenever Abu Jahl used to act folly or try to be arrogant in front of Sayyiduna Rasoolullah , Allah the exalted used to humiliate him. 

Narrated by Ibn Hisham: Abdul Malik bin Abdullah bin Abi Sufyan As-Saqafi, whose memory power was sound, told me that once a man from the tribe of Arash (or Arasha) came to Mecca on a business trip. He had brought few camels along with him in order to sell them. Abu Jahl offered to purchase those camels but did not pay the man in return. Rather, he continued to prolong the date of payment.

Frustrated by this, one day, the Arashi man came and stood in the meeting of the Quraishi leaders which was being held in the court of Kaba. That time, Sayyiduna Rasoolullah ﷺ was also present there in another corner of the courtyard. The Arashi businessman exclaimed: "O people of Quraish! Is there anyone among you who can help and support me against Abul Hikm bin Hisham (Abu Jahl)? I am a traveller and a business man and he (Abu Jahl) is not returning the dues which he owes to me. 

The narrator says that the Quraishi leaders who were holding a meeting then, indiated towards Sayyiduna Rasoolullah ﷺ and said: "Can you see Him? Go to Him! He will help you." They intended to make a mockery of Sayyiduna Rasoolullah ﷺ (astaghfirulah) and to put Him ﷺ into a controversy because everyone knew that they both had many differences between themselves.

The Arashi went and stood in front of Rasoolullah ﷺ and mentioned his problem to Him ﷺ and asked for Rasoolullah's ﷺ help. He appealed to Rasoolullah ﷺ that He ﷺ should help him in getting his amount from Abu Jahl. Rasoolullah stood up and walked with the man towards Abu Jahl's house.

Sayyiduna Rasoolullah , the most daring among all the men who will ever be created, knocked Abu Jahl's door. He inquired who is it? Rasoolullah ﷺ said: "Muhammad ()! Come out." Abu Jahl came out. When he saw Rasoolullah ﷺ, that very moment, his condition was that his face became white as if it was left without blood circulation. Rasoolullah ﷺ said: "Give this man his dues." Abu Jahl said in a submissive voice: "Surely, will do. You stay here and I will bring him his dues" 

Abu Jahl went inside his house and returned with the amount which he had to pay to the Arashi businessman and handed to him. Rasoolullah ﷺ asked him to return and proceed with his other activities. The man was so happy that he returned to the Quraishi leaders who were still continuing with their meeting. He said to them: "Allah bless Him ﷺ. By Allah! He ﷺ helped me in getting back my dues. 

After few minutes, Abu Jahl came to the courtyard of Kaba. The Quraishi leaders were astonished. They asked him disgustingly: "Poor creature! Why did you obey Muhammad (ﷺ)? We never saw you doing so before?" He replied: "Wretched be you all! By Allah! When I heard Muhammad's () voice, I suddenly felt tremendous fear and became like a puppet. When I opened the door and looked at Him ﷺ, I clearly saw a gigantic camel by His ﷺ side (which no one else saw). I never saw such a fearful camel before. It had terrible head tooth and shoulders. By Allah! If I refused Mohammad's (ﷺ) orders, it would have eaten me up."


Jazakum Allah Khair,
Group | Seerah of Rasoolullah صلي الله عليه و سلم

Friday, 16 October 2015

Good Offer

Good Offer

SCHOOL OF QURAN is an online Islamic center for providing online Quran Tutoring service that enables you/your kids to learn to read the Holy Quran with Tajweed at your desired time and days with live Quran teacher. Our lessons are equally beneficial for kids and adults. All you need is a computer with headphone and internet connection.
Who Can Learn?
Learning to read Quran does not entail any age limitations, restrictions and boundaries. Anybody can learn to read Quran. The only prerequisite is that the intending student should have access to broadband internet connection and a Desk Top or Lap top computer with headphone and microphone. The process is very simple and self explanatory, however, we will make a presentation to show you how thereading session actually proceeds. You may like to benefit from our unique offer of a 3 days free trial for evaluating the usefulness of our online reading Quran lessons.
We Provides you
 Well qualified and highly civilized Quran tutors.
 One to one live Quran classes.
 Easy Quran learning while staying at your home.
 Availability of timing at your own choice.
 Affordable and convenient.
 No registration /admission fee.
Essential Equipments
 Personal Computer (PC) or Laptop.
 Headset with a microphone.
 DSL/Broadband internet connection.
 Skype ( Free and safe Audio software )
 For audio contact Skype telephony software.

A perfect plan for you and your children
Norani Qaida in just 120 days
Holy Quran in just one year
Join Today
Skype: SYED.SHERAZI313

Friday, 30 May 2014

Sura Noor

سُورَةٌ أَنزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
Sahih International
[This is] a surah which We have sent down and made [that within it] obligatory and revealed therein verses of clear evidence that you might remember.
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ
Sahih International
The [unmarried] woman or [unmarried] man found guilty of sexual intercourse - lash each one of them with a hundred lashes, and do not be taken by pity for them in the religion of Allah , if you should believe in Allah and the Last Day. And let a group of the believers witness their punishment.
الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
Sahih International
The fornicator does not marry except a [female] fornicator or polytheist, and none marries her except a fornicator or a polytheist, and that has been made unlawful to the believers.
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
Sahih International
And those who accuse chaste women and then do not produce four witnesses - lash them with eighty lashes and do not accept from them testimony ever after. And those are the defiantly disobedient,
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Sahih International
Except for those who repent thereafter and reform, for indeed, Allah is Forgiving and Merciful.
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
Sahih International
And those who accuse their wives [of adultery] and have no witnesses except themselves - then the witness of one of them [shall be] four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the truthful.
وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
Sahih International
And the fifth [oath will be] that the curse of Allah be upon him if he should be among the liars.
وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ
Sahih International
But it will prevent punishment from her if she gives four testimonies [swearing] by Allah that indeed, he is of the liars.
وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
Sahih International
And the fifth [oath will be] that the wrath of Allah be upon her if he was of the truthful.
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ
Sahih International
And if not for the favor of Allah upon you and His mercy... and because Allah is Accepting of repentance and Wise.
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Sahih International
Indeed, those who came with falsehood are a group among you. Do not think it bad for you; rather it is good for you. For every person among them is what [punishment] he has earned from the sin, and he who took upon himself the greater portion thereof - for him is a great punishment.
لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ
Sahih International
Why, when you heard it, did not the believing men and believing women think good of one another and say, "This is an obvious falsehood"?
لَّوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَٰئِكَ عِندَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ
Sahih International
Why did they [who slandered] not produce for it four witnesses? And when they do not produce the witnesses, then it is they, in the sight of Allah , who are the liars.
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Sahih International
And if it had not been for the favor of Allah upon you and His mercy in this world and the Hereafter, you would have been touched for that [lie] in which you were involved by a great punishment
إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمٌ
Sahih International
When you received it with your tongues and said with your mouths that of which you had no knowledge and thought it was insignificant while it was, in the sight of Allah , tremendous.
وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُم مَّا يَكُونُ لَنَا أَن نَّتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
Sahih International
And why, when you heard it, did you not say, "It is not for us to speak of this. Exalted are You, [O Allah ]; this is a great slander"?
يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَن تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
Sahih International
Allah warns you against returning to the likes of this [conduct], ever, if you should be believers.
وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
Sahih International
And Allah makes clear to you the verses, and Allah is Knowing and Wise.
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
Sahih International
Indeed, those who like that immorality should be spread [or publicized] among those who have believed will have a painful punishment in this world and the Hereafter. And Allah knows and you do not know.
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
Sahih International
And if it had not been for the favor of Allah upon you and His mercy... and because Allah is Kind and Merciful.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَن يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Sahih International
O you who have believed, do not follow the footsteps of Satan. And whoever follows the footsteps of Satan - indeed, he enjoins immorality and wrongdoing. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, not one of you would have been pure, ever, but Allah purifies whom He wills, and Allah is Hearing and Knowing.
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Sahih International
And let not those of virtue among you and wealth swear not to give [aid] to their relatives and the needy and the emigrants for the cause of Allah , and let them pardon and overlook. Would you not like that Allah should forgive you? And Allah is Forgiving and Merciful.
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Sahih International
Indeed, those who [falsely] accuse chaste, unaware and believing women are cursed in this world and the Hereafter; and they will have a great punishment
يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
Sahih International
On a Day when their tongues, their hands and their feet will bear witness against them as to what they used to do.
يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ
Sahih International
That Day, Allah will pay them in full their deserved recompense, and they will know that it is Allah who is the perfect in justice.
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
Sahih International
Evil words are for evil men, and evil men are [subjected] to evil words. And good words are for good men, and good men are [an object] of good words. Those [good people] are declared innocent of what the slanderers say. For them is forgiveness and noble provision.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
Sahih International
O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded.
فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
Sahih International
And if you do not find anyone therein, do not enter them until permission has been given you. And if it is said to you, "Go back," then go back; it is purer for you. And Allah is Knowing of what you do.
لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ
Sahih International
There is no blame upon you for entering houses not inhabited in which there is convenience for you. And Allah knows what you reveal and what you conceal.
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
Sahih International
Tell the believing men to reduce [some] of their vision and guard their private parts. That is purer for them. Indeed, Allah is Acquainted with what they do.
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
Sahih International
And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
Sahih International
And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allah will enrich them from His bounty, and Allah is all-Encompassing and Knowing.
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
Sahih International
But let them who find not [the means for] marriage abstain [from sexual relations] until Allah enriches them from His bounty. And those who seek a contract [for eventual emancipation] from among whom your right hands possess - then make a contract with them if you know there is within them goodness and give them from the wealth of Allah which He has given you. And do not compel your slave girls to prostitution, if they desire chastity, to seek [thereby] the temporary interests of worldly life. And if someone should compel them, then indeed, Allah is [to them], after their compulsion, Forgiving and Merciful.

وَلَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُّبَيِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِّنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ
Sahih International
And We have certainly sent down to you distinct verses and examples from those who passed on before you and an admonition for those who fear Allah .

Wikipedia

Search results